وہ جو بے خوفی کا امکان کچل جاتی ہے
ہے خبر اب وہ بلا آج کہ کل جاتی ہے
نئے آزار کی آمد سے سرِ خانۂ غم
کچھ نہ کچھ صورتِ حالات بدل جاتی ہے
وہ کسی موجۂ شاداب کا سایہ ہی نہ ہو
زندگی جس کی طرف سانس کے بل جاتی ہے
خامشی ہی کا یہ جادو ہے یہی چُپ کا طلسم
ان کہی بات بھی آوازمیں ڈھل جاتی ہے
شعلۂ یاد سے اس بزم کے اٹھتی ہے وہ آنچ
تہہ بہ تہہ برف سی تنہائی پگھل جاتی ہے
سمت کب بابِ نوازش کی معین ہو گی
جستجو روز ہی بے سمت نکل جاتی ہے
جس جگہ اُٹھتے ہیں دو دستِ دعا بس وہیں پر
لڑکھڑاتی ہوئی اُمید سنبھل جاتی ہے
عابدہ تقی
No comments:
Post a Comment