صفحات

Tuesday, 22 June 2021

کیا دن تھے کہ ہر دل پہ تھی سلطانی ہماری

 کیا دن تھے کہ ہر دل پہ تھی سلطانی ہماری

اب خود پہ بھی چلتی نہيں من مانی ہماری

بوسے ہیں کہ زخموں کے نشاں بول اُٹھیں گے

دیکھے تو کوئی غور سے پیشانی ہماری

وہ ٹوٹ کے بکھرا ہے تو ہم جُڑنے لگے ہیں

آئینے سے بہتر نہيں حیرانی ہماری

اے کوچۂ جاناں کی ہوا یہ تو بتا دے

کس حال میں زندہ ہے وہ دیوانی ہماری

ممکن ہے کہ کچھ وقت اگر ساتھ گزاریں

آباد کرے شہر کو ویرانی ہماری

پھر کون دِلا! تیرے فقیروں کی سنے گا

تُو نے بھی اگر بات نہيں مانی ہماری

ہم اس کو پریشان کِیے رکھتے ہیں عامی

جس شخص پہ جچتی ہو پریشانی ہماری


عمران عامی

No comments:

Post a Comment