صفحات

Tuesday, 22 June 2021

کیسے ہوتی ہے شب کی سحر دیکھتے

 کیسے ہوتی ہے شب کی سحر دیکھتے

کاش ہم بھی کبھی جاگ کر دیکھتے

خواب کیسے اترتا ہے احساس میں

تیرے شانے پہ رکھ کے یہ سر دیکھتے

ایک امید تھی منتظر عمر بھر

کاش تم بھی کبھی لوٹ کر دیکھتے

برف کی جھینی چادر تلے جھیل تھی

چھو کے مجھ کو کبھی تم اگر دیکھتے

انگلیاں ان کی لیتیں نہ سنیاس تو

میری زلفوں سے بھی کھیل کر دیکھتے

ایک پرواز میں گر نہ جاتے اگر

تیرے من کا گگن میرے پر دیکھتے

بند کمروں نے کھولی نہیں سانکلیں

ورنہ سجدے میں بیٹھی سحر دیکھتے


نینا سحر

No comments:

Post a Comment