صداقت لوٹ آؤ اب
کئی رشتے کئی ناطے
کئی سپنے کئی اپنے
میں پیچھے چھوڑ کر نکلا
امیدوں سے بھری گٹھڑی
میں اپنے ساتھ لایا تھا
وطن سے دور آیا تھا
اکیلا رات کو اکثر
میں جب تاریک کمرے میں
کبھی جو کھولتا گٹھڑی
کہیں پر ماں کی ممتا اور
کہیں پر بھائیوں کی یاد
کہیں بہنوں کے وعدے سب
مری سوچوں پہ چھا جاتے
کبھی اشکوں کی صورت میں
مری آنکھوں میں آ جاتے
مگر ہر روز ہی خود سے
نئے وعدے ، نئی قسمیں
میں لے کر کام پر جاتا
میں خود کو یونہی سمجھاتا
وطن سے دور برسوں سے
میں رہتا ہوں
مگر اکثر
مری آنکھوں میں گلیوں کے
محلے کے سبھی نقشے
سبھی شامیں، سبھی راتیں
ابھی تک رقص کرتے ہیں
کبھی چپکے سے آ کر وہ
مرے کانوں میں کہتے ہیں
صداقت لوٹ آؤ اب
تمہارے بعد اب تک وہ
کسی نے بھی نہیں کھولی
جو کھڑکی اکثر کھلتی تھی
سید صداقت علی
No comments:
Post a Comment