Thursday, 17 June 2021

صداقت لوٹ آؤ اب

صداقت لوٹ آؤ اب


کئی رشتے کئی ناطے 

کئی سپنے کئی اپنے 

میں پیچھے چھوڑ کر نکلا 

امیدوں سے بھری گٹھڑی 

میں اپنے ساتھ لایا تھا 

وطن سے دور آیا تھا 

اکیلا رات کو اکثر 

میں جب تاریک کمرے میں 

کبھی جو کھولتا گٹھڑی 

کہیں پر ماں کی ممتا اور 

کہیں پر بھائیوں کی یاد 

کہیں بہنوں کے وعدے سب 

مری سوچوں پہ چھا جاتے 

کبھی اشکوں کی صورت میں 

مری آنکھوں میں آ جاتے 

مگر ہر روز ہی خود سے 

نئے وعدے ، نئی قسمیں 

میں لے کر کام پر جاتا 

میں خود کو یونہی سمجھاتا 

وطن سے دور برسوں سے 

میں رہتا ہوں 

مگر اکثر 

مری آنکھوں میں گلیوں کے 

محلے کے سبھی نقشے 

سبھی شامیں، سبھی راتیں 

ابھی تک رقص کرتے ہیں 

کبھی چپکے سے آ کر وہ 

مرے کانوں میں کہتے ہیں 

صداقت لوٹ آؤ اب 

تمہارے بعد اب تک وہ 

کسی نے بھی نہیں کھولی 

جو کھڑکی اکثر کھلتی تھی


سید صداقت علی

No comments:

Post a Comment