پہلے تم بارش کر کر کے خوش ہو جاتے ہو
پھر آنکھوں میں پانی بھر کے خوش ہو جاتے ہو
کیوں تصویر بناتے ہو تم پچھلی رات کے خوابوں کی
انہی کو آتشدان پہ دھر کے خوش ہو جاتے ہو
کتنے خوش رہتے ہو تم، اپنی گہری پرچھائیں میں
پھر خود اپنے آپ سے ڈر کے خوش ہو جاتے ہو
جی لگتا ہے خاک اڑاتے کم آباد زمانوں میں
ان گلیوں میں جی کے، مر کے خوش ہو جاتے ہو
غور سے دیکھو آئینہ اب دُھندلا ہونے والا ہے
دُور سے دیکھ کے اور سنور کے خوش ہو جاتے ہو
تم کیا جانو خستہ دیواروں کے اوٹ کے منظر کو
دیکھ کے تم دروازے گھر کے خوش ہو جاتے ہو
رفعت ناہید
No comments:
Post a Comment