صفحات

Wednesday, 2 June 2021

پہلے تم بارش کر کر کے خوش ہو جاتے ہو

 پہلے تم بارش کر کر کے خوش ہو جاتے ہو

پھر آنکھوں میں پانی بھر کے خوش ہو جاتے ہو

کیوں تصویر بناتے ہو تم پچھلی رات کے خوابوں کی

انہی کو آتشدان پہ دھر کے خوش ہو جاتے ہو

کتنے خوش رہتے ہو تم، اپنی گہری پرچھائیں میں

پھر خود اپنے آپ سے ڈر کے خوش ہو جاتے ہو

جی لگتا ہے خاک اڑاتے کم آباد زمانوں میں

ان گلیوں میں جی کے، مر کے خوش ہو جاتے ہو

غور سے دیکھو آئینہ اب دُھندلا ہونے والا ہے

دُور سے دیکھ کے اور سنور کے خوش ہو جاتے ہو

تم کیا جانو خستہ دیواروں کے اوٹ کے منظر کو

دیکھ کے تم دروازے گھر کے خوش ہو جاتے ہو


رفعت ناہید

No comments:

Post a Comment