صفحات

Wednesday, 2 June 2021

بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے

 بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے

رُکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں ہیرے

وہ اپنے ہاتھ سے مُورت میری بناتا ہے

وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے

پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے

یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ہے

وفا کا لکھتا ہے انجام عشق سے پہلے

پھر اس کے بعد نگر پیار کا بساتا ہے

تمہارے ہوتے ہوئے خاک ہو گئی کیسے

تمہارے ساتھ میرا کس طرح کا ناتا ہے

رکا ہوا ہے جو منظر وہ اس کا حصہ ہے

بھلا لکیر سے باہر بھی کوئی آتا ہے


صوفیہ بیدار

No comments:

Post a Comment