صفحات

Saturday, 19 June 2021

لباس جاں بدل کے دیکھتے ہیں

 لباسِ جاں بدل کے دیکھتے ہیں

چلو خود سے نکل کر دیکھتے ہیں

سبھی جس آگ میں ہوتے ہیں میلے

اسی میں ہم اجل کر دیکھتے ہیں

نہیں جلتے، سنا ہے عشق والے

پتنگے بن کے، جل کر دیکھتے ہیں

سنبھلنا دیکھ کر، اس کو ہے مشکل

سحر پھر بھی سنبھل کر دیکھتے ہیں


شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment