زخم گنتے رہے اور زخم اٹھاتے رہے ہم
زندگی پھر بھی سہولت سے بِتاتے رہے ہم
لذتِ غم میں پذیرائیِ فن تک نہ ملی
شعر دیوار پہ لکھ لکھ کے مٹاتے رہے ہم
آنکھ لگتے ہی قفس میں شبِ ہجراں کی میاں
دو گھڑی ہی سہی پر ناچتے گاتے رہے ہم
اس نے اک بار کہا تھا یہاں سے جائیں آپ
پھر خدا جانتا ہے جان سے جاتے رہے ہم
آج اُدھر رنجِ تغافل میں تڑپتے رہے وہ
اور اِدھر ہجر کی لذت کو مناتے رہے ہم
رندِ محرومِ محبت کی خدا خیر کرے
نامراد آدمی کو کام میں لاتے رہے ہم
دانیال رند
No comments:
Post a Comment