صفحات

Tuesday, 22 June 2021

ذرا بتاؤ تمام وعدوں کا کیا بنے گا

 ذرا بتاؤ، تمام وعدوں کا کیا بنے گا؟

ہمارے سپنوں ہمارے خوابوں کا کیا بنے گا

وہ مسکراہٹ ہے اور ہم سے بچھڑ رہی ہے

ہمارے جیسے اداس لوگوں کا کیا بنے گا

بروزِ محشر سوال ہو گا محبتوں کا

میں سوچتا ہوں کہ تیرے جیسوں کا کیا بنے گا

نگاہ کب تک پڑے گی تیری مِرے جنوں پر

جنوں نہ ہو گا تو تیری آنکھوں کا کیا بنے گا

محبت اپنی نمو کو آنسو تو مانگتی ہے

تمہی بتاؤ کہ ہجر والوں کا کیا بنے گا

یہ دشت ہم سے خفا ہوا تو کہاں رہیں گے

ہمارے جیسے خراب حالوں کا کیا بنے گا

سنبھل تو جائیں گے بعد تیرے پہ سوچتے ہیں

ہماری غزلوں ہمارے شعروں کا کیا بنے گا


سیف ریاض

No comments:

Post a Comment