صفحات

Tuesday, 22 June 2021

کوئی جھونکا ہوا لائے گی

 کوئی جھونکا ہوا لائے گی

نیند کوئی خواب سا دکھائے گی

کب سے جس میں مبتلا ہوں میں 

وہ شفا کیا دوا لائے گی؟

اسی آس پہ جی لیتے ہیں  

سوزشِ عشق دل کو، کب تلک کہاں جلائے گی

میں تیری یاد کے ساتھ رہتی ہوں 

شاید وہ ہی مجھ سے نبھا جائے گی


نگہت عبداللہ

No comments:

Post a Comment