تِرے اقرار کے دھوکے میں آ کر
لُٹے ہیں پیار کے دھوکے میں آ کر
مقیّد ہو گیا ہوں اپنے گھر میں
در و دیوار کے دھوکے میں آ کر
کہیں میں چاند پر نہ ہونٹ رکھ دوں
تِرے رخسار کے دھوکے میں آ کر
تِرے ابرو سے ہم کٹتے رہے ہیں
حسیں تلوار کے دھوکے میں آ کر
محبت کا یقیں کرنے لگا ہوں
دلِ بیمار کے دھوکے میں آ کر
بہت بہروپیے ہیں اس جہاں میں
نہ رو کردار کے دھوکے میں آ کر
سمجھتا ہے میں اس کو چھوڑ دوں گا
فقط انکار کے دھوکے میں آ کر
عرباض عرضی
No comments:
Post a Comment