صفحات

Saturday, 3 July 2021

ترے اقرار کے دھوکے میں آ کر

تِرے اقرار کے دھوکے میں آ کر

لُٹے ہیں پیار کے دھوکے میں آ کر

مقیّد ہو گیا ہوں اپنے گھر میں

در و دیوار کے دھوکے میں آ کر

کہیں میں چاند پر نہ ہونٹ رکھ دوں

تِرے رخسار کے دھوکے میں آ کر

تِرے ابرو سے ہم کٹتے رہے ہیں

حسیں تلوار کے دھوکے میں آ کر

محبت کا یقیں کرنے لگا ہوں

دلِ بیمار کے دھوکے میں آ کر

بہت بہروپیے ہیں اس جہاں میں

نہ رو کردار کے دھوکے میں آ کر

سمجھتا ہے میں اس کو چھوڑ دوں گا

فقط انکار کے دھوکے میں آ کر


عرباض عرضی

No comments:

Post a Comment