لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اَڑی ہے اب بھی
کوئی اُمید میرے پیچھے پڑی ہے اب بھی
شہرِ تنہائی میں موسم نہیں بدلا کرتے
دن بہت چھوٹا یہاں رات بڑی ہے اب بھی
مان لوں کیسے؟ یہاں دریا نہیں تھا لوگو
دیکھ لو ریت پہ اک کشتی پڑی ہے اب بھی
آسماں تُو نے چھُپا رکھا ہے سُورج کو کہاں
کیوں کلائی میں تِری بند گھڑی ہے اب بھی
منزلیں دیتی ہیں آواز کہ؛ جلدی آؤ
پیڑ کہتے ہیں؛ رُکو دھوپ کڑی ہے اب بھی
سردار آصف
No comments:
Post a Comment