صفحات

Saturday, 3 July 2021

اجالوں میں نہ پھر اپنا فسانہ عام ہو جائے

 اُجالوں میں نہ پھر اپنا فسانہ عام ہو جائے

جھٹک دو زُلف کو اپنی گھنیری شام ہو جائے

خیالوں کی حسیں دنیا بڑی سنگین ہوتی ہے

محبت میں کوئی ناحق نہ پھر بدنام ہو جائے

سلیقے گُفتگو کے جاننے بے حد ضروری ہیں

تکلّم تلخ ہو تو آدمی گُمنام ہو جائے

محبت کے سفر میں راستے دشوار لگتے ہیں

نکالو پھر کوئی ترکیب اپنا کام ہو جائے

چلو کشمیر چل کے دیکھتے ہیں پھُول کی وادی

حسیں پھُولوں کی وادی میں کوئی گُلفام ہو جائے

جو صنفِ شاعری کے بحر سے اوزان سے عاری

غزل کی صنف میں تابش وہی ناکام ہو جائے


تابش رامپوری

No comments:

Post a Comment