صفحات

Saturday, 3 July 2021

لوگ کرتے ہیں ہم نہیں کریں گے

لوگ کرتے ہیں ہم نہیں کریں گے

مستقل کوئی غم نہیں کریں گے

ہم تو دریا کو وسعتیں دیں گے

دریا کوزے میں ضم نہیں کریں گے

دیکھ دنیا اگر ستایا ہمیں

ہم تِرے ساتھ کم نہیں کریں گے

کون دے گا یہ احترام اگر

ہم تجھے محترم نہیں کریں گے

کیا ضمانت ہے اس کی آپ کے پاس

حسن والے ستم نہیں کریں گے

ہم حسینی ہیں پانی بھرتے ہوئے

تیرے بازو قلم نہیں کریں گے


ازبر سفیر

No comments:

Post a Comment