لوگ کرتے ہیں ہم نہیں کریں گے
مستقل کوئی غم نہیں کریں گے
ہم تو دریا کو وسعتیں دیں گے
دریا کوزے میں ضم نہیں کریں گے
دیکھ دنیا اگر ستایا ہمیں
ہم تِرے ساتھ کم نہیں کریں گے
کون دے گا یہ احترام اگر
ہم تجھے محترم نہیں کریں گے
کیا ضمانت ہے اس کی آپ کے پاس
حسن والے ستم نہیں کریں گے
ہم حسینی ہیں پانی بھرتے ہوئے
تیرے بازو قلم نہیں کریں گے
ازبر سفیر
No comments:
Post a Comment