صفحات

Saturday, 3 July 2021

میں چاہتا ہوں اب کوئی جنوں بھی نہ رہے

 جنوں


ہم وہ کم شناس ہیں

جنہیں جنوں تھا عشق کا

اور ہر لحاظ سے جنوں

جنوں کسی کے قُرب کا

جنوں کسی کی ذات کا

جنوں کسی کے لمس کا

چاہنے کے ساتھ ساتھ

چاہے جانے کا جنوں

اور سب سے بڑھ کے جو

جنوں ہے میری ذات کو

وہ جنوں ہے کہ، مجھے

کوئی جنوں بھی نہ رہے

ہاں میں چاہتا ہوں اب

کوئی جنوں بھی نہ رہے


کامران حیدر

No comments:

Post a Comment