جنوں
ہم وہ کم شناس ہیں
جنہیں جنوں تھا عشق کا
اور ہر لحاظ سے جنوں
جنوں کسی کے قُرب کا
جنوں کسی کی ذات کا
جنوں کسی کے لمس کا
چاہنے کے ساتھ ساتھ
چاہے جانے کا جنوں
اور سب سے بڑھ کے جو
جنوں ہے میری ذات کو
وہ جنوں ہے کہ، مجھے
کوئی جنوں بھی نہ رہے
ہاں میں چاہتا ہوں اب
کوئی جنوں بھی نہ رہے
کامران حیدر
No comments:
Post a Comment