صفحات

Thursday, 19 August 2021

تہ خنجر کیے سجدے مسلماں ایسے ہوتے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 خدا کی راہ میں کارِ نمایاں ایسے ہوتے ہیں

تہِ خنجر کِیے سجدے مسلماں ایسے ہوتے ہیں

وہ پیاری پیاری شکلیں دیکھ کر آلِ پیمبرﷺ کی

ستاروں نے کہا؛ اے چاند! انساں ایسے ہوتے ہیں

جوانی رَن سے کہتی آ رہی ہے لاشِ قاسمؑ پر

کہ اسلامی جواں مَردوں کے ارماں ایسے ہوتے ہیں

مسافر کا تنِ بے سر ہے اور شب کا اندھیرا ہے

کسی کی لاش پر گیسو پریشاں ایسے ہوتے ہیں

قدم پر شہؑ کے دَم نکلا حبیب ابنِ مظاہر کا

محبت کے وفا کے عہد و پیماں ایسے ہوتے ہیں

خدا ہی جانے دل سے کیا کہا ہو گا نگاہوں نے

سکینہؑ کو خبر کیا تھی کہ زِنداں ایسے ہوتے ہیں

سنا کر نجم قصہ کربلا والے شہیدوں کا

مسلمانوں کو سمجھا دو مسلماں ایسے ہوتے ہیں


نجم آفندی

میرزا تجمل حسین

No comments:

Post a Comment