صفحات

Tuesday, 3 August 2021

تمہارے ہجر سے نسبت بحال کی ہوئی ہے

 تمہارے ہجر سے نسبت بحال کی ہوئی ہے

سیہ لباس ہے اور زرد شال کی ہوئی ہے

کبھی خوشی سے چمکتی تھی آئینے کی طرح

اور اب یہ آنکھ اذیت سے لال کی ہوئی ہے

وہ خد و خال صحیفہ سمجھ کے یاد کئے

بہت تلاوتِ حسن و جمال کی ہوئی ہے

اور اب یہ دل کو کہا جائے خود سنبھل کے چلے

جو بن پڑا ہے میاں دیکھ بھال کی ہوئی ہے

مِرے لبوں کو ہنسی اس لیے بھی راس نہیں

کسی نے میری خوشی پائمال کی ہوئی ہے

جنم لیا تھا خزاں رُت میں جس اداسی نے

ذرا حساب لگا، کتنے سال کی ہوئی ہے؟


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment