تمہارے ہجر سے نسبت بحال کی ہوئی ہے
سیہ لباس ہے اور زرد شال کی ہوئی ہے
کبھی خوشی سے چمکتی تھی آئینے کی طرح
اور اب یہ آنکھ اذیت سے لال کی ہوئی ہے
وہ خد و خال صحیفہ سمجھ کے یاد کئے
بہت تلاوتِ حسن و جمال کی ہوئی ہے
اور اب یہ دل کو کہا جائے خود سنبھل کے چلے
جو بن پڑا ہے میاں دیکھ بھال کی ہوئی ہے
مِرے لبوں کو ہنسی اس لیے بھی راس نہیں
کسی نے میری خوشی پائمال کی ہوئی ہے
جنم لیا تھا خزاں رُت میں جس اداسی نے
ذرا حساب لگا، کتنے سال کی ہوئی ہے؟
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment