Tuesday, 3 August 2021

یعنی تشنہ کا مقدر بھی سنوارا جائے

 یعنی تشنہ کا مقدر بھی سنوارا جائے

کوئی دریا کسی صحرا سے گزارا جائے

ہو گماں اس پہ کسی رات کی سیدھائی کا

زلفِ پُر خم کو ذرا اور سدھارا جائے

کیوں بھلا چاند سے تشبیہہ تجھے دے کوئی

حسنِ نوخیز کو مدھم سا نکھارا جائے

تم ہو دریا کے تلاطم پہ بہت شاد، مگر

مجھ کو ڈر ہے مِرے ہاتھوں سے کنارا جائے

وہ جنوں خاک ہوا جس نے کیا تھا مجنوں

اب مجھے نام سے میرے ہی پکارا جائے

اب نہ بجھ پائیں گے ہم سے جو جلائے تھے دِیے

نامہ بر بول اسے جا کے، خدارا جائے

اک تجلی نہیں کافی ہے تِرے تشنہ کو

پھر سے موسٰی کو سرِ طور اتارا جائے


جاوید جدون

No comments:

Post a Comment