یعنی تشنہ کا مقدر بھی سنوارا جائے
کوئی دریا کسی صحرا سے گزارا جائے
ہو گماں اس پہ کسی رات کی سیدھائی کا
زلفِ پُر خم کو ذرا اور سدھارا جائے
کیوں بھلا چاند سے تشبیہہ تجھے دے کوئی
حسنِ نوخیز کو مدھم سا نکھارا جائے
تم ہو دریا کے تلاطم پہ بہت شاد، مگر
مجھ کو ڈر ہے مِرے ہاتھوں سے کنارا جائے
وہ جنوں خاک ہوا جس نے کیا تھا مجنوں
اب مجھے نام سے میرے ہی پکارا جائے
اب نہ بجھ پائیں گے ہم سے جو جلائے تھے دِیے
نامہ بر بول اسے جا کے، خدارا جائے
اک تجلی نہیں کافی ہے تِرے تشنہ کو
پھر سے موسٰی کو سرِ طور اتارا جائے
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment