Tuesday, 3 August 2021

ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں

 ابھی کچھ دن لگیں گے


ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں

کسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میں

کسی کے شہر کو دریافت کرنے میں

کسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

درد کا پرچم بنانے میں

پرانے زخم پہ مرہم لگانے میں

محبت کی کویتا کو ہوا کے رخ پہ لانے میں

پرانی نفرتوں کو بھول جانے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

رات کی دیوار میں اک در بنانے میں

مقدر میں لگی اک گانٹھ کو آزاد کرنے میں

نئے کچھ مرحلے تسخیر کرنے میں

مرے غالب، مرے ٹیگور کو اپنا بنانے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

دشت میں پھولوں کا گلدستہ سجانے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

مگر یہ دن زیادہ تو نہیں ہوں گے

بس اک موسم کی دوری پر

کہیں ہم تم ملیں گے

بس اک ساعت کی نزدیکی میں

باہم مشورے ہوں گے

بس اک گزرے ہوئے کل سے پرے

ہم پاس بیٹھیں گے

بہت سا درس سہہ لیں گے

بہت سی بات کر لیں گے


اصغر ندیم سید

No comments:

Post a Comment