صفحات

Friday, 20 August 2021

آج آنکھوں سے اپنی پلا دوستا

 آج آنکھوں سے اپنی پِلا، دوستا

مے کدے کا یہ چکر مِٹا، دوستا

ان سے آگے بھی ہے اک تِرا منتظر

چاند تاروں کو منہ مت لگا، دوستا

راز کی بات تجھ کو بتاتا چلوں

رازِ دل نہ کسی کو بتا، دوستا

اک وسیلہ سمندر میں ہے یہ، مگر

ناخدا کو سمجھ نہ خدا، دوستا

تیری ہر بات پہ سر جھکانے لگا

اس منافق سے خود کو بچا، دوستا

تُو نہیں ہمنشیں، پر سراپا تیرا

مجھ کو آئے نظر جا بجا، دوستا

تجھ کو اپنی انا کا نہیں پاس، تو

میری خاطر ہی نہ سر جھُکا، دوستا

تُو سراپا وفا ہے، مگر کیا کروں

مجھ کو بھاتے نہیں با وفا، دوستا

عشق کی ابتدا، وجہِ تخلیق تھی

عشق کی انتہا کربلا، دوستا


کامران حیدر

No comments:

Post a Comment