صفحات

Friday, 20 August 2021

محبت دل پہ کرتی ہے اثر آہستہ آہستہ

 محبت دل پہ کرتی ہے اثر آہستہ آہستہ

مریض غم کو ہوتی ہے خبر آہستہ آہستہ

خدا اب جانے کیا انجام ہو اس سجدہ ریزی کا

گھسا جاتا ہے تیرا سنگ در آہستہ آہستہ

جنون عشق لے آیا ہے آخر دشت غربت میں

مقدر بن گئی گرد سفر آہستہ آہستہ

کیا ہے جنبش لب نے مجھے بے حال کچھ ایسا

میں یوں تو سانس لیتا ہوں مگر آہستہ آہستہ

ابھر آئے گا اپنے وصل کا خورشید بھی اک دن

مگر ہو گی شب غم مختصر آہستہ آہستہ

بچاؤں کس طرح کچے مکاں کو تیز بارش میں

گرے جاتے ہیں سب دیوار و در آہستہ آہستہ

نہیں مرتا یکایک بے ارادہ نازنینوں پر

چھڑکتا ہوں میں جاں ان پر مگر آہستہ آہستہ

کسی کے دور رہنے سے محبت کم نہیں ہوتی

مگر برباد ہوتا ہے جگر آہستہ آہستہ

غضب ہے بزم میں تیرا یہ کیف انگیز نظارہ

ہوا جاتا ہوں خود سے بے خبر آہستہ آہستہ

مجھے کرنے لگا ہے خانماں برباد غم تیرا

وطن میں ہو گیا ہوں در بدر آہستہ آہستہ

امنڈ آئی ہے کیوں تاریک شب اطراف عالم پر

کہاں گم ہو گئے شمس و قمر آہستہ آہستہ

مظفر راز پوشیدہ رہے گا کیسے محفل میں

لہو ٹپکا رہی ہے چشم تر آہستہ آہستہ


مظفر احمد

No comments:

Post a Comment