صفحات

Friday, 20 August 2021

جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے

 جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے

دل میں جب محبت کی چاندنی اترتی ہے

شام کے دھندلکوں میں ڈوبتا ہے یوں سورج

جیسے آرزو کوئی میرے دل میں مرتی ہے

دن میں ایک ملتی ہے، اور دوسری شب میں

دھوپ جب بچھڑتی ہے، چاندنی سنورتی ہے

باغباں نے روکا یا لے گیا اسے بادل

بات کیا ہوئی خوشبو اتنی دیر کرتی ہے

غم کی بند مٹھی میں ریت سا مِرا جیون

جب ذرا کسی مٹھی زندگی بکھرتی ہے

گاؤں کے پرند تم کو کیا پتا بدیسوں میں

رات ہم اکیلوں کی کس طرح گزرتی ہے

دور مجھ سے رہتے ہیں سارے غم زمانے کے

تیری یاد کی خوشبو دل میں جب ٹھہرتی ہے


عتیق انظر

No comments:

Post a Comment