صفحات

Friday, 20 August 2021

زمیں سے چل کے تو پہنچا ہوں آسماں تک میں

 زمیں سے چل کے تو پہنچا ہوں آسماں تک میں

سفر کا بوجھ اٹھائے پھروں کہاں تک میں

ازل وجود سفر راستے کی دھند عدم

قصوروار ہوں ترتیب داستاں تک میں

سکون زیست عبارت تھا جس کی یادوں سے

بھلا چکا ہوں وہ حرف قرار جاں تک میں

یہ سوچ کر نہ کوئی راستے میں لٹ جائے

دیے جلاتا چلا کوئے دلبراں تک میں

میں زندگی کی عنایات سے نہیں محروم

قریب ہوں غم دل سے غم جہاں تک میں

نہ فرش میرا ٹھکانہ نہ عرش میرا مقام

یہ اور بات زمیں پر ہوں آسماں تک میں


عابد حشری

No comments:

Post a Comment