صفحات

Friday, 20 August 2021

زندگی چیختی سنائی دے

 زندگی چیختی سُنائی دے

جیسے ہر شخص یہاں دُہائی دے

آ گیا وقت وہ کہ خود منصف

جُرم کے حق میں اب گواہی دے

راہ میں شام کی ہوئے پہرے

راستہ کس طرح سُجھائی دے

خواب آنکھوں نے بُن لیے جب سے

شہر جلتا ہوا دِکھائی دے

بے سبب ٹُوٹتے ہیں کیوں رشتے

دل کے ہر زخم سے سُنائی دے

چلتے پھرتے مہیب سائیوں میں

کاش زندہ کوئی دِکھائی دے

اپنی اپنی انا بچانے کو

دیکھئے کون کب جُدائی دے


ماہ پارہ صفدر

No comments:

Post a Comment