امتحاں یہ کیسا ہے
عشق کے مسافر کا
حُسن کے مجاور کا
رنگ کے شناور کا
اور تیرے خاور کا
آنکھ کیوں مچلتی ہے
شام کیوں اترتی ہے
یاد کیوں نکھرتی ہے
سانس کیوں بکھرتی ہے
زہر کیوں اگلتی ہے
درد کیوں ہے سینے میں
خونِ دل ہے پینے میں
دل نہیں قرینے میں
لطف خاک جینے میں
خون ہے پسینے میں
صحنِ گلستاں میں وہ
اک گلاب جیسا ہے
ساونوں کے موسم میں
وہ شراب جیسا ہے
سردیوں کی نیندوں میں
ایک خواب جیسا ہے
خواب خواب ہوتا ہے
وقت کے سمندر میں
اضطراب ہوتا ہے
ہجر چاٹ لیتا ہے
جو شباب ہوتا ہے
جستجو تِری کیا ہے
آرزو تِری کیا ہے
یہ جدائیاں کیسی
داغ داغ سینہ ہے
دیکھتے نہیں پیارے
گفتگو تِری کیا ہے
امتحاں یہ کیسا ہے
خاور چودھری
No comments:
Post a Comment