عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی
اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاشۂ جگر گوشۂ بتول
اسلام کے لہو سے تیری پیاس بُجھ گئی
سیراب کر گیا تجھے خونِ رگِ رسول
کرتی رہے گی پیش شہادت حسینؑ کی
آزادی حیات کا یہ سرمدی اصول
چڑھ جائے کٹ کے سر تیرا نیزے کی نوک پر
لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment