صفحات

Saturday, 14 August 2021

حسین سجدے سے اٹھے تو سر کٹائے ہوئے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 بس اب تو رہتے ہیں آنکھوں میں اشک آئے ہوئے

زمانہ بِیت گیا ہم کو مُسکرائے ہوئے

غمِ حسینؑ کا گھاؤ ہے کس قدر گہرا

یہ ان سے پوچھ جو ہیں دل پہ چوٹ کھائے ہوئے

نبیﷺ کے گھر کے اجالوں کا اب خدا حافظ

اندھیرے شامِ ستم کے ہیں سر اٹھائے ہوئے

لگی ہے بھیڑ غم و رنج و درد و کلفت کی

ہم اپنے دل میں ہیں اک کربلا بسائے ہوئے

عجیب وقت ہے زہراؑ کے گُلعزاروں پر

سکینہؑ پیاسی ہے، اصغرؑ ہیں تیر کھائے ہوئے

یہ ناتوانی، یہ رستے کی سختیاں سجادؑ

چلو گے کیسے بھلا بیڑیاں اٹھائے ہوئے

نمازِ عشق کی یہ طرفگی کوئی دیکھے

حسینؑ سجدے سے اٹھے تو سر کٹائے ہوئے

شکست دے نہ سکی عزمِ ابنِ حیدرؑ کو

اجل کھڑی ہے ندامت سے منہ چھپائے ہوئے

سبب خموشی کا پوچھا گیا جو زینبؑ سے

تو رو کے بولیں کہ نانا ہیں یاد آئے ہوئے

یہ شب کہیں شبِ عاشور تو نہیں لوگو

اداس چاند ہے تارے ہیں جھلملائے ہوئے

پلٹ کے آئے نہ اب تک مِرے چچا عباسؑ

سکینہؑ روتی ہے دستِ دعا اٹھائے ہوئے

نڈھال کر گئی اصغرؑ کی آخری ہچکی

حسینؑ خمیے میں آئے کمر جھکائے ہوئے

بھٹک رہی ہے ابھی تک تلاش میں منزل

گزر گیا ہے کوئی کارواں لُٹائے ہوئے

وہ حق پرست سرِ منزلِ وفا پہنچے

خدا کی یاد کو زادِ سفر بنائے ہوئے

ہم اہلِ دل ہیں، ہمیں اہلِ زر سے کیا مطلب

ہم اپنے شاہِ نجف سے ہیں لو لگائے ہوئے

نصیر گُلشنِ زہراؑ کے پیاسے پھولوں کو

سلام کہتے ہیں آنکھوں میں اشک آئے ہوئے


سید نصیرالدین نصیر

No comments:

Post a Comment