صفحات

Saturday, 14 August 2021

دسترس میں نہیں وفا کرنا

 دسترس میں نہیں وفا کرنا

کیا کسی اور سے گلہ کرنا

پھر وہ شدت سے یاد آئے تو

بھول جانے کا فیصلہ کرنا

جب مقدر پہ رشک آنے لگے

اک ذرا اور فاصلہ کرنا

کوئی اخلاص سے پکارے تو

دیکھنا، سوچنا، وفا کرنا

زندگی! تیری بے ثباتی نے

ہم سے سیکھا ہے حوصلہ کرنا

غم میں اپنا مزاج ہے پیارے

ایک پتھر سے تذکرہ کرنا

خاور اپنی تلاش مُشکل ہے

کیا کسی اور دیکھنا کرنا


خاور چودھری

No comments:

Post a Comment