صفحات

Thursday, 19 August 2021

یہ کس نے کہا ماتم شبیر نہ ہو گا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


یہ کس نے کہا ماتم شبیرؑ نہ ہو گا 

ہے خواب جو شرمندہ تعبیر نہ ہو گا 

جو بُغض ہے شہ سے اسے تم لاکھ چھپاؤ 

کیا نامۂ اعمال میں تحریر نہ ہو گا 

جو بیعت فاسق کے لیے سر کو جُھکا دے

وہ لاکھ کہے؛ پیروئے شبیر نہ ہو گا

دنیا میں اگر بچ بھی گئے دُشمن شبیرؑ

کیا قہر الٰہی بھی عناں گیر نہ ہو گا؟

وہ خود نہ رہے نام ہے اللہ کا باقی 

جو کہتے تھے اب نعرۂ تکبیر نہ ہو گا

جس جس نے دکھایا ہے دل فاطمہؑ زہراؑ

کیا حشر میں وہ لائقِ تعزیر نہ ہو گا

جاتے ہیں تو شبیرؑ کے ہمراہ ہیں اصغرؑ 

لوٹیں گے تو آغوش میں بے شیر نہ ہو گا

جس طرح پھرائے گئے در در حرم شاہ 

رُسوا کوئی یوں صاحب توقیر نہ ہو گا

بیمار کو غش آ گیا زِندانِ بلا میں

کچھ دیر کو اب نوحۂ زنجیر نہ ہو گا

عزت تو ہے اک رکن عزائے شہؑ والا 

یہ فخر کبھی باعث تحقیر نہ ہو گا


عزت لکھنوی 

No comments:

Post a Comment