صفحات

Wednesday, 18 August 2021

مرے وطن یہ تو ساری بہار تجھ سے ہے

مرے وطن یہ تو ساری بہار تجھ سے ہے


تمہیں پتہ ہے کہ اس سبز رنگ کے اندر؟

نجانے کتنے شہیدوں کا خون شامل ہے 

نجانے کتنی ہی ماؤں نے لال کھوئے ہیں 

سفید رنگ جو شامل ہے اس کی خاطر بھی 

نجانے کتنی ہی بہنوں کے بھائی خاک تلے 

سفید کپڑوں میں لپٹے خاموش سوئے ہیں 

یہ چاند تارہ جو شامل ہے پیارے جھنڈے میں 

یہ روشنی ہے ترقی کی اک علامت ہے 

یہ بیٹیوں کے تقدس کی اک علامت ہے 

جو پاک دیس کی خاطر کنویں میں جا کو دیں 

تمہیں پتہ ہے کہ دریا کے سرخ پانی میں؟

رواں دواں ہیں جوانوں کے سر بریدہ یوں 

کنول کے پھول بہیں سطح آب پر جیسے 

کبھی سنو تو وہ چیخ و پکار اور آہیں 

وہ باز گشت ابھی تک سنائی دیتی ہے 

شہید مرد کی بیوہ دہائی دیتی ہے 

قصور وار ہیں ہم سب ہماری غلطی ہے 

ضمیر بیچ کے روٹی خریدتے ہیں ہم 

شعور بیچ کے کوٹھی خریدتے ہیں ہم 

قلم کو گروی ہیں رکھتے سہولتوں کے لیے 

غلط کو سچ بھی ہیں لکھتے تو شہرتوں کے لیے 

کبھی تو غور کرو اور محاسبہ بھی کرو 

غریب لوگوں کے حق کا مطالبہ بھی کرو 

پلٹ کے آئیں گے موسم حسین سارے ہی 

گلاب پھر سے کھلیں گے چمن میں ویسے ہی 

جلال و طاقت و عزت وقار تجھ سے ہے 

غرور تجھ سے ہے سب افتخار تجھ سے ہے 

یہ پھول کلیاں، عنادل، فضا تروتازہ 

مرے وطن یہ تو ساری بہار تجھ سے ہے


سید صداقت علی

No comments:

Post a Comment