صفحات

Wednesday, 18 August 2021

ملا کرو کبھی ہم سے تو زندگی کی طرح

 ملا کرو کبھی ہم سے تو زندگی کی طرح

یہ کیا کہ دیکھ کے اُٹھ جاؤ اجنبی کی طرح

سمٹ سکو تو سمٹ جاؤ ماہ تاب صفت

بکھر سکو تو بکھر جاؤ چاندنی کی طرح

تمہاری ریشمی زُلفیں رُخِ حیات کی ضو

مسخر کے دوش پہ مانوس تیرگی کی طرح

رہِ حیات کے غم میں نشاط کا پہلو

کسی کے حسن لب و رُخ کی دلکشی کی طرح


نشاط عثمانی

No comments:

Post a Comment