ملا کرو کبھی ہم سے تو زندگی کی طرح
یہ کیا کہ دیکھ کے اُٹھ جاؤ اجنبی کی طرح
سمٹ سکو تو سمٹ جاؤ ماہ تاب صفت
بکھر سکو تو بکھر جاؤ چاندنی کی طرح
تمہاری ریشمی زُلفیں رُخِ حیات کی ضو
مسخر کے دوش پہ مانوس تیرگی کی طرح
رہِ حیات کے غم میں نشاط کا پہلو
کسی کے حسن لب و رُخ کی دلکشی کی طرح
نشاط عثمانی
No comments:
Post a Comment