صفحات

Thursday, 19 August 2021

باقی کچھ بھی رہا نہیں ہے

 باقی کچھ بھی رہا نہیں ہے

اور یہ غم بھی نیا نہیں ہے

ان آنکھوں میں خواب تھا میرا

بوجھ یہ دل سے ہٹا نہیں ہے

شوق کا دامن کیسے چھوڑوں

خون رگوں میں جما نہیں ہے

کتنی بار پُکارا کس کو

سناٹے نے سُنا نہیں ہے

گزر گئی بے تابی حد سے

اب ہونٹوں پر دُعا نہیں ہے


ماہ طلعت زاہدی

No comments:

Post a Comment