باقی کچھ بھی رہا نہیں ہے
اور یہ غم بھی نیا نہیں ہے
ان آنکھوں میں خواب تھا میرا
بوجھ یہ دل سے ہٹا نہیں ہے
شوق کا دامن کیسے چھوڑوں
خون رگوں میں جما نہیں ہے
کتنی بار پُکارا کس کو
سناٹے نے سُنا نہیں ہے
گزر گئی بے تابی حد سے
اب ہونٹوں پر دُعا نہیں ہے
ماہ طلعت زاہدی
No comments:
Post a Comment