صفحات

Saturday, 14 August 2021

ذرا سکون کی خاطر ہی ادھر آئے ہیں

 ذرا سکون کی خاطر ہی ادھر آئے ہیں

تمام زخم کہ سینے میں اتر آئے ہیں

دروغِ مصلحت آمیز سے نہ بہلاؤ

مجھے بھی علم ہے عذاب اُتر آئے ہیں

یہاں دریدہ گریباں ہیں چاک دامن ہیں

لبوں پہ رکھے ہنسی آپ کدھر آئے ہیں

اے خدا! تیری خدائی کا جب سوال ہوا

جانتے بُوجھتے ہم اس سے مُکر آئے ہیں

تھی جن کی نرم گوئی باعثِ راحت اے صدف

درشت لہجہ لیے آج نظر آئے ہیں


صدف رباب

No comments:

Post a Comment