ذرا سکون کی خاطر ہی ادھر آئے ہیں
تمام زخم کہ سینے میں اتر آئے ہیں
دروغِ مصلحت آمیز سے نہ بہلاؤ
مجھے بھی علم ہے عذاب اُتر آئے ہیں
یہاں دریدہ گریباں ہیں چاک دامن ہیں
لبوں پہ رکھے ہنسی آپ کدھر آئے ہیں
اے خدا! تیری خدائی کا جب سوال ہوا
جانتے بُوجھتے ہم اس سے مُکر آئے ہیں
تھی جن کی نرم گوئی باعثِ راحت اے صدف
درشت لہجہ لیے آج نظر آئے ہیں
صدف رباب
No comments:
Post a Comment