شوق کا مرحلہ بھی ٹوٹ گیا
ضبط اور ضابطہ بھی ٹوٹ گیا
امن کی فاختہ بھی روٹھ گئی
اس کا وہ گھونسلہ بھی ٹوٹ گیا
کہکشاں چھوٹتے ہی یادوں کی
وصل کا راستہ بھی ٹوٹ گیا
یاد کی خانقاہ ٹوٹ گئی
سانس کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا
آپ کیوں آ گئے ہیں آنکھوں میں
خواب کا رابطہ بھی ٹوٹ گیا
اک مسلسل جمود تھا جس میں
جان وہ واسطہ بھی ٹوٹ گیا
علی محمد رضوی
No comments:
Post a Comment