صفحات

Sunday, 19 September 2021

سوچتے رہنے کی اذیت سے بھی نکلے نہیں ہیں

 سوچتے رہنے کی اذیت سے بھی نکلے نہیں ہیں

یہ بھی اچھا ہے کہ غم ہجر کے پھیلے نہیں ہیں

نیم خوابیدہ سی آنکھوں میں شبیہیں بنتے

میرے تکیے پہ پڑے خواب بھی سوتے نہیں ہیں

ورنہ تو وقت کا دریا ہی بہا لے جاتا

ہم تیری یاد کی پگڈنڈی پہ بیٹھے نہیں ہیں

میرے محبوب! تیرا فیصلہ سر آنکھوں پر

ہم خفا خود سے ہیں تم سے تو روٹھے نہیں ہیں

ایک ہی پل میں طشت از بام ہوا رازِ دروں

ورنہ تو خوابوں میں بھی بندِ قبا کھلتے نہیں ہیں

کیا یہ ممکن ہے کہ اک ذرہ پلٹ دے دنیا

ہم سبھی خاک بسر خاک سے ملتے نہیں ہیں

اپنی ہی ذات کے اہرام سے باہر نہ گئے

کیسے کہہ دیں کہ تماشے کو سمجھتے نہیں ہیں

ہم سے ٹکرا کے بھلا موت کو کیا لینا ہے

سینچ کے رکھتے ہیں غم دنیا کو دیتے نہیں ہیں


آسناتھ کنول

No comments:

Post a Comment