صفحات

Sunday, 19 September 2021

خیال و شعر کی تدفین سے نہ مر جائیں

 خیال و شعر کی تدفین سے نہ مر جائیں

ہم ایسے لوگ ہیں توہین سے نہ مر جائیں

یہ عشق والے ابھی عین تک ہی پہنچے ہیں

ذرا سا اور بڑھے شین سے نہ مر جائیں

تِرے الاپ میں شامل ہے سُر محبت کا

یہ سارے سانپ تِری بِین سے نہ مر جائیں

ہمیں تُو پانی فقط گھونٹ گھونٹ کر کے پِلا

کہ پیاس اتنی ہے، تسکین سے نہ مر جائیں

جو ان کی راہ چلے ٹھیک، ورنہ کافر ہے

یہ دِین والے کہیں دِین سے نہ مر جائیں

یہ آدمی کو بھی اپنا خدا سمجھتے ہیں

یہ بستی والے شیاطین سے نہ مر جائیں

کنارِ آب جو خیمہ لگائے بیٹھے ہیں

کہیں یہ شورِ اباسین سے نہ مر جائیں


مظہر نیازی

No comments:

Post a Comment