ہم ہیں قصور وار دہائی نہ دے سکے
دامن پہ ان کے داغ دکھائی نہ دے سکے
اپنی ضرورتوں کے لیے مانگتے گئے
لینے کا وقت آیا، تو پائی نہ دے سکے
شکوہ کیا ہے ساتویں ننھی پری نے یہ
بہنیں تو آپ دیتے ہیں بھائی نہ دے سکے
مجبوریاں بھی ان کی ہماری طرح کی ہیں
بے مول چارہ گر بھی دوائی نہ دے سکے
صیّاد اب کی بار مجھے ایسا چاہیۓ
جو دل میں قید کر لے رہائی نہ دے سکے
بدبخت اس سے کوئی زیادہ نہیں یہاں
جو اپنی ماں کو اپنی کمائی نہ دے سکے
حارث یہ سوچ کھوکھلا کرتی ہے دم بدم
بھائی کو دیکھ حوصلہ بھائی نہ دے سکے
حارث انعام
No comments:
Post a Comment