Sunday, 19 September 2021

ہم ہیں قصور وار دہائی نہ دے سکے

 ہم ہیں قصور وار دہائی نہ دے سکے

دامن پہ ان کے داغ دکھائی نہ دے سکے

اپنی ضرورتوں کے لیے مانگتے گئے

لینے کا وقت آیا، تو پائی نہ دے سکے

شکوہ کیا ہے ساتویں ننھی پری نے یہ

بہنیں تو آپ دیتے ہیں بھائی نہ دے سکے

مجبوریاں بھی ان کی ہماری طرح کی ہیں

بے مول چارہ گر بھی دوائی نہ دے سکے

صیّاد اب کی بار مجھے ایسا چاہیۓ

جو دل میں قید کر لے رہائی نہ دے سکے

بدبخت اس سے کوئی زیادہ نہیں یہاں

جو اپنی ماں کو اپنی کمائی نہ دے سکے

حارث یہ سوچ کھوکھلا کرتی ہے دم بدم

بھائی کو دیکھ حوصلہ بھائی نہ دے سکے


حارث انعام

No comments:

Post a Comment