صفحات

Tuesday, 21 September 2021

باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے

 باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے

تو کھینچ لینا اپنی طرف زور سے مجھے

کچھ بول اور کاٹ دے خاموشیوں کا جال

وحشت ہے یار اتنے گھنے شور سے مجھے

داخل ہوں تیرے دل میں دبے پاؤں کس طرح

یہ کام سیکھنا ہے کسی چور سے مجھے

وے پوچھے میری خواہشیں تو میں اسے کہوں

اک وعدہ چاہیۓ تھا تِری اور سے مجھے

مرنے کی بات لایا ہی تھا میں زبان پر

غصے میں اس نے ڈانٹا بہت زور سے مجھے


احمد عظیم

No comments:

Post a Comment