باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے
تو کھینچ لینا اپنی طرف زور سے مجھے
کچھ بول اور کاٹ دے خاموشیوں کا جال
وحشت ہے یار اتنے گھنے شور سے مجھے
داخل ہوں تیرے دل میں دبے پاؤں کس طرح
یہ کام سیکھنا ہے کسی چور سے مجھے
وے پوچھے میری خواہشیں تو میں اسے کہوں
اک وعدہ چاہیۓ تھا تِری اور سے مجھے
مرنے کی بات لایا ہی تھا میں زبان پر
غصے میں اس نے ڈانٹا بہت زور سے مجھے
احمد عظیم
No comments:
Post a Comment