صفحات

Tuesday, 21 September 2021

چہرے نئے ہیں طرز ادا بھی نئی رہے

 چہرے نئے ہیں طرزِ ادا بھی نئی رہے

کیا فائدہ کہ لاکھ سجیں ہم، کمی رہے

اب دوست چاہتے ہیں دکھانے کے واسطے

بس ہم سے راہ و رسم ہی ان کی بنی رہے

طوفان چھیڑ چھاڑ سے جب باز ہی نہیں

جرأت کہاں تلک لبِ ساحل کھڑی رہے

تہذیب شہر ہی نہیں جنگل میں بھی ملے

صرف آدمی کی طرح اگر آدمی رہے

پیمانہ ہی نہ کوئی مِرے کام آ سکے

ایسا نہ ہو نجات سے لغزش بڑی رہے

یوں ہی سہی کسی کے تصور کی اے نہال

گڑ ہی گئی ہے پھانس تو دل میں گڑی رہے


نہال رضوی

No comments:

Post a Comment