صفحات

Tuesday, 21 September 2021

عشق کر نہیں رہے پھر بھی مر نہیں رہے

 عشق کر نہیں رہے

پھر بھی مر نہیں رہے

میری بستیوں کے گھر

میرے گھر نہیں رہے

تیری بارشوں سے بھی

مٹکے بھر نہیں رہے

عادتاً خموش ہیں

تجھ سے ڈر نہیں رہے

چھٹی والے دن بھی ہم

اپنے گھر نہیں رہے


احمد عظیم

No comments:

Post a Comment