صفحات

Tuesday, 21 September 2021

ایک تصویر جھلملاتی ہوئی

 ایک تصویر جھلملاتی ہوئی

آنکھ ملتی ہے مسکراتی ہوئی

آرزو دل میں کوئی جگنے لگی

جاوداں جیسے بے ثباتی ہوئی

تم نے سادہ سی ایک بات کہی

کیسے یہ فکر کائناتی ہوئی

ایک قوسِِ قزح ہے جیسے غزل

ان فضاؤں میں گنگناتی ہوئی

اک لڑی ہے حسین خوابوں کی

خوبصورت سی کھلکھلاتی ہوئی

سارے رشتے برائے نام ہوئے

اور ملاقات کاغذاتی ہوئی

چاندنی رات پھر سے گزرے گی

مجھ کو قصے تِرے سناتی ہوئی

اب تلک زندہ ہے خیالوں میں

اک حسیں شام دل لبھاتی ہوئی

شعر کہتی ہے آرزو مجھ میں

اپنے مرکز سے دور جاتی ہوئی

زیست لیتی ہے امتحاں کیونکر

مجھ کو ہر لحظہ آزماتی ہوئی


علیم اسرار

No comments:

Post a Comment