ایک تصویر جھلملاتی ہوئی
آنکھ ملتی ہے مسکراتی ہوئی
آرزو دل میں کوئی جگنے لگی
جاوداں جیسے بے ثباتی ہوئی
تم نے سادہ سی ایک بات کہی
کیسے یہ فکر کائناتی ہوئی
ایک قوسِِ قزح ہے جیسے غزل
ان فضاؤں میں گنگناتی ہوئی
اک لڑی ہے حسین خوابوں کی
خوبصورت سی کھلکھلاتی ہوئی
سارے رشتے برائے نام ہوئے
اور ملاقات کاغذاتی ہوئی
چاندنی رات پھر سے گزرے گی
مجھ کو قصے تِرے سناتی ہوئی
اب تلک زندہ ہے خیالوں میں
اک حسیں شام دل لبھاتی ہوئی
شعر کہتی ہے آرزو مجھ میں
اپنے مرکز سے دور جاتی ہوئی
زیست لیتی ہے امتحاں کیونکر
مجھ کو ہر لحظہ آزماتی ہوئی
علیم اسرار
No comments:
Post a Comment