دیارِ دل کے اس سورج کا ڈھلنا بھی ضروری تھا
سہانی شام کا موسم بدلنا بھی ضروری تھا
میسر تھیں مجھے شامیں کبھی گلزار رستوں پر
مگر پھر ہجر کے صحرا میں چلنا بھی ضروری تھا
نہ چھوڑیں گے ہم ساتھ اک دوجے کا، وعدہ تھا
ہمیں اپنی ہی باتوں سے بہلنا بھی ضروری تھا
ذرا پہلے محبت سے نگاہیں چار کرنی تھیں
ہمیں پھر عشق کے دریا میں جلنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ کر لیتے غموں سے اپنے سمجھوتا
مگر پھر دل کی دنیا کا بدلنا بھی ضروری تھا
مقدر میں لکھا تھا سو مصائب کے محاذوں پر
قدم کا لڑکھڑانا پھر سنبھلنا بھی ضروری تھا
زارا قاسمی
No comments:
Post a Comment